رزلٹ کا نام
گیارہویں جماعت سالانہ رزلٹ · ایچ ایس ایس سی پارٹ ون، پہلا سالانہ امتحان 2026
پاکستان کے تمام تعلیمی بورڈز کا رزلٹ پورٹل
آخری اپ ڈیٹ: · تمام معلومات سرکاری بورڈ نوٹسز سے تصدیق شدہ ہیں
کیا آپ بھی اپنے فرسٹ ایئر رزلٹ 2026 کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں؟ یہاں آپ کو اپنے رزلٹ سے متعلق ہر ضروری معلومات ایک ہی جگہ ملیں گی۔ پنجاب کے نوں تعلیمی بورڈز جمعرات، 22 اکتوبر 2026 کو گیارہویں جماعت کا رزلٹ جاری کریں گے۔ رزلٹ صبح 10 بجے ہر بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر دستیاب ہو جائے گا۔ فیڈرل بورڈ، خیبر پختونخوا اور کوئٹہ بورڈ کے طلبہ اپنا انٹر پارٹ ون رزلٹ پہلے ہی دیکھ سکتے ہیں۔
لائیو کاؤنٹ ڈاؤن · 22 اکتوبر 2026 · صبح 10 بجے
یہ ٹائمر بتاتا ہے کہ آپ کے رزلٹ کے اعلان میں اب کتنا وقت باقی ہے۔ الٹی گنتی 22 اکتوبر کو پاکستانی وقت کے مطابق صبح 10 بجے تک جاری رہے گی۔ ان دنوں میں اپنی رول نمبر سلپ تلاش کر لیں اور اپنے بورڈ کا ایس ایم ایس کوڈ موبائل میں محفوظ کر لیں۔
گیارہویں جماعت کا رزلٹ 2026 جاری ہو چکا ہے! ابھی اپنا رزلٹ چیک کریں ←
یہ پنجاب بورڈز کا سرکاری شیڈول ہے، تاریخ بدلنے کی صورت میں ہم چند منٹ میں یہ صفحہ اپ ڈیٹ کر دیں گے۔
فوری رزلٹ چیک
اپنا بورڈ منتخب کریں اور رول نمبر درج کریں، ہم آپ کو سیدھا بورڈ کے سرکاری رزلٹ صفحے پر لے جائیں گے۔ یہ پورا عمل ایک منٹ سے بھی کم وقت میں مکمل ہو جاتا ہے۔
رزلٹ کا اعلان
پنجاب بورڈز کا گیارہویں جماعت کا رزلٹ 2026 جمعرات، 22 اکتوبر کو صبح 10 بجے جاری کیا جائے گا۔ نوں بورڈز ایک ہی مشترکہ شیڈول کے تحت ایک ساتھ رزلٹ جاری کرتے ہیں، جسے پنجاب بورڈز کمیٹی آف چیئرپرسنز طے کرتی ہے۔ آپ اپنا انٹر پارٹ ون رزلٹ آن لائن، ایس ایم ایس یا گزٹ پی ڈی ایف کے ذریعے دیکھ سکیں گے۔ بہتر ہوگا کہ رزلٹ سے ایک دن پہلے ہی اپنا رول نمبر تیار رکھ لیں تاکہ آخری لمحے پر پریشانی نہ ہو۔
گیارہویں جماعت سالانہ رزلٹ · ایچ ایس ایس سی پارٹ ون، پہلا سالانہ امتحان 2026
جمعرات، 22 اکتوبر 2026
صبح 10 بجے (پاکستانی وقت)
15 جون 2026، پنجاب کے تمام بورڈز میں
پہلے پرچے سے لے کر ری چیکنگ کی آخری تاریخ تک کا پورا سفر نیچے دیا گیا ہے۔ یہ تاریخیں ابھی اپنے موبائل کے کیلنڈر میں محفوظ کر لیں۔
پنجاب بھر میں انٹر پارٹ ون کے پرچوں کا آغاز ہوا
پنجاب بورڈز نے صبح 10 بجے بارہویں جماعت کا رزلٹ جاری کیا
گیارہویں جماعت کے پوزیشن ہولڈرز کا متوقع اعلان (لاہور بورڈ نے بارہویں کے ٹاپرز ایک دن پہلے شام 4 بجے بتائے تھے)
پنجاب کے تمام بورڈز گیارہویں جماعت کا رزلٹ 2026 جاری کریں گے
ری چیکنگ کی درخواست کی آخری تاریخ (رزلٹ کے 15 دن بعد)
ہر بورڈ پنجاب کی تاریخ کی پیروی نہیں کرتا اور کئی بورڈز اپنا 2026 کا فرسٹ ایئر رزلٹ پہلے ہی جاری کر چکے ہیں۔ نیچے دیے گئے جدول میں اپنا بورڈ تلاش کریں اور تازہ ترین صورتحال دیکھیں۔
| بورڈ | صوبہ | رزلٹ کی تاریخ 2026 | صورتحال | کامیابی کی شرح 2026 |
|---|---|---|---|---|
| پنجاب کے تمام 9 بورڈز | پنجاب | 22 اکتوبر، صبح 10 بجے | جلد متوقع | رزلٹ کے دن شامل کیا جائے گا |
| فیڈرل بورڈ اسلام آباد | وفاقی | 9 ستمبر، صبح 11:30 بجے | اعلان ہو چکا | 65.31% |
| پشاور بورڈ | خیبر پختونخوا | 21 ستمبر | اعلان ہو چکا | 99.10% (پاس + پروموٹ) |
| سوات بورڈ | خیبر پختونخوا | ستمبر 2026 | اعلان ہو چکا | 62.55% |
| ڈیرہ اسماعیل خان اور ایبٹ آباد بورڈ | خیبر پختونخوا | ستمبر 2026 | اعلان ہو چکا | بورڈ کے صفحات دیکھیں |
| مردان، کوہاٹ، بنوں، ملاکنڈ بورڈ | خیبر پختونخوا | بورڈ کی ویب سائٹ دیکھیں | بورڈ کی ویب سائٹ دیکھیں | — |
| کوئٹہ بورڈ | بلوچستان | 20 جولائی، شام 5 بجے | اعلان ہو چکا | 89.0% (پارٹ ون اور ٹو کا مشترکہ نتیجہ) |
| کراچی اور سندھ بورڈز، آغا خان بورڈ، آزاد کشمیر بورڈ | سندھ / آزاد کشمیر | بورڈ کی ویب سائٹ دیکھیں | بورڈ کی ویب سائٹ دیکھیں | — |
مرحلہ وار رہنمائی
گیارہویں جماعت کا رزلٹ 2026 دیکھنے کے چار آسان طریقے موجود ہیں۔ رول نمبر والا طریقہ سب سے تیز اور سب سے زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔ اگر آپ کے پاس رول نمبر موجود نہیں تو نام، ایس ایم ایس اور گزٹ کے طریقے بھی کام آتے ہیں۔ رزلٹ والے دن جو طریقہ آپ کے لیے سب سے آسان ہو، وہی اپنائیں۔
رزلٹ والے دن زیادہ تر طلبہ یہی طریقہ استعمال کرتے ہیں۔ اس میں چند سیکنڈ میں آپ کے مضمون وار نمبر، گریڈ اور حتمی نتیجہ سامنے آ جاتا ہے۔
لاہور بورڈ کے طلبہ براہِ راست result.biselahore.com پر بھی اپنا رزلٹ دیکھ سکتے ہیں۔ اپنے رزلٹ کا اسکرین شاٹ ضرور محفوظ کریں، کیونکہ آن لائن رزلٹ اصل رزلٹ کارڈ ملنے تک عارضی حیثیت رکھتا ہے۔
کیا رزلٹ سے پہلے آپ کی رول نمبر سلپ کھو گئی ہے؟ پریشان نہ ہوں، کیونکہ کچھ بورڈز نام کے ذریعے بھی رزلٹ تلاش کرنے کی سہولت دیتے ہیں۔
ہر بورڈ رزلٹ والے دن نام سے تلاش کی سہولت فراہم نہیں کرتا۔ اگر آپ کا بورڈ یہ سہولت نہیں دیتا تو گزٹ پی ڈی ایف میں اپنا نام تلاش کریں۔
جب رش کی وجہ سے بورڈ کی ویب سائٹ سست ہو جائے تو ایس ایم ایس سب سے بہترین متبادل ثابت ہوتا ہے۔ یہ طریقہ ہر موبائل فون پر انٹرنیٹ کے بغیر بھی کام کرتا ہے۔
کچھ بورڈز رول نمبر سے پہلے ایک مختصر کوڈ لکھنے کا کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر پشاور بورڈ کے لیے پہلے "BISEP" لکھا جاتا ہے اور پھر ایک سپیس دی جاتی ہے۔
گزٹ پی ڈی ایف میں تمام طلبہ کے نتائج ایک ہی فائل میں ہوتے ہیں۔ ویب سائٹ سست ہونے پر یہ بہترین متبادل ہے، اور اس سے پوری کلاس کا رزلٹ ایک ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔
سرکاری معلومات
رزلٹ کے رش سے پہلے ہی آج اپنے بورڈ کا ایس ایم ایس کوڈ اپنے فون میں محفوظ کر لیں۔ اپنا فرسٹ ایئر رزلٹ دیکھنے کے لیے صرف انہی سرکاری کوڈز اور ویب سائٹس کا استعمال کریں۔
| نمبر | بورڈ | ایس ایم ایس کوڈ | سرکاری ویب سائٹ |
|---|---|---|---|
| 01 | 800291ایس ایم ایس بھیجیں | biselahore.com | |
| 02 | 800299ایس ایم ایس بھیجیں | bisegrw.edu.pk | |
| 03 | 800240ایس ایم ایس بھیجیں | bisefsd.edu.pk | |
| 04 | 800293ایس ایم ایس بھیجیں | web.bisemultan.edu.pk | |
| 05 | 800296ایس ایم ایس بھیجیں | biserawalpindi.edu.pk | |
| 06 | 800290ایس ایم ایس بھیجیں | bisesargodha.edu.pk | |
| 07 | 800298ایس ایم ایس بھیجیں | bisebwp.edu.pk | |
| 08 | 800295ایس ایم ایس بھیجیں | bisedgkhan.edu.pk | |
| 09 | 800292ایس ایم ایس بھیجیں | bisesahiwal.edu.pk | |
| 10 | BISEP [سپیس] رول نمبر ←8583ایس ایم ایس بھیجیں | bisep.edu.pk | |
| 11 | صرف آن لائن اور گزٹ | fbise.edu.pk |
رزلٹ چیک کرنے کی رہنمائی
رزلٹ گزٹ ایک ایسی پی ڈی ایف فائل ہوتی ہے جس میں بورڈ کے تمام طلبہ کے نتائج شامل ہوتے ہیں۔ بورڈز عام طور پر رزلٹ کے اعلان کے کچھ دیر بعد یہ فائل اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ اگر آپ ایک ساتھ کئی طلبہ کے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو یہ سب سے بہترین طریقہ ہے۔ جب آن لائن پورٹل بہت سست ہو جائے تب بھی گزٹ سے رزلٹ دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ فائلیں عام طور پر بہت بڑی ہوتی ہیں، اس لیے ممکن ہو تو وائی فائی پر ڈاؤن لوڈ کریں۔ مثال کے طور پر لاہور بورڈ کا 2026 کا نویں جماعت کا گزٹ 1,799 صفحات پر مشتمل تھا۔
بہت سے طلبہ کے نام ملتے جلتے ہوتے ہیں، اس لیے نام سے تلاش کرنے پر کئی نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ اپنے رزلٹ کی تصدیق تین چیزوں سے کریں: اپنا رول نمبر، اپنے والد کا نام اور اپنے مضامین کے نمبر۔ اگر یہ تینوں معلومات مل جائیں تو سمجھ لیں کہ یہ آپ ہی کا رزلٹ ہے۔
گزٹ کا استعمال کیوں کریں؟ گزٹ کی مدد سے اساتذہ پوری کلاس کا رزلٹ دیکھ سکتے ہیں، والدین اپنے تمام بچوں کا رزلٹ ایک جگہ دیکھ سکتے ہیں، اور ویب سائٹ بند ہونے پر طلبہ اپنا رزلٹ تصدیق کر سکتے ہیں۔
2026 کے نئے قواعد
اس سال ہر طالب علم کے ذہن میں یہی سوال ہے، اس لیے یہاں اس کا واضح جواب دیا جا رہا ہے۔ انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) نے کم از کم پاسنگ مارکس 33 فیصد سے بڑھا کر 40 فیصد کر دیے ہیں۔ آئی بی سی سی کے سرکاری گریڈنگ سوالنامے کے مطابق تمام بورڈز کو یہ نظام 2026 کے سالانہ امتحانات سے نافذ کرنا ہے۔ تاہم بورڈز اسے مرحلہ وار نافذ کر رہے ہیں اور یہ عمل 2028 تک جاری رہے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اس سال آپ کے بورڈ پر کون سا قانون لاگو ہوگا۔ سندھ کے بورڈز، فیڈرل بورڈ، آزاد کشمیر بورڈ، قراقرم بورڈ، آغا خان بورڈ اور ضیاء الدین بورڈ پہلے ہی 40 فیصد والا قانون اپنا چکے ہیں۔ دوسری طرف پنجاب نے 2026 کے نویں جماعت کے رزلٹ میں بھی 33 فیصد ہی کا قانون لاگو کیا تھا۔ اس لیے زیادہ امکان ہے کہ پنجاب کے گیارہویں جماعت کے رزلٹ میں بھی 33 فیصد کا قانون لاگو ہوگا۔ ہم 22 اکتوبر کو سرکاری گزٹ سے اس کی حتمی تصدیق کریں گے۔
نیچے دیے گئے جدول سے آپ اپنے ہر پرچے کا ہدف آسانی سے جان سکتے ہیں۔ بس اپنے پرچے کے کل نمبر تلاش کریں اور سامنے والی قدر دیکھیں۔
| پرچے کے کل نمبر | 33 فیصد پر پاسنگ نمبر | 40 فیصد پر پاسنگ نمبر |
|---|---|---|
| 100 نمبر | 33 | 40 |
| 75 نمبر | 25 | 30 |
| 60 نمبر | 20 | 24 |
| 50 نمبر | 17 | 20 |
اعداد اوپر کی طرف پورے کیے گئے ہیں، حتمی طور پر آپ کے بورڈ کا اپنا قاعدہ لاگو ہوگا۔
اپنے کل نمبر اور حاصل کردہ نمبر لکھیں۔ ہم آپ کی درست فیصد اور پاس یا فیل کا نتیجہ بتائیں گے۔
پاسنگ نمبر = کل نمبر × فیصد، اوپر کی طرف پورا کیا گیا۔ بورڈز ہر پرچے میں الگ سے بھی پاسنگ نمبر لازمی قرار دیتے ہیں، اور حتمی طور پر آپ کے بورڈ کا قاعدہ لاگو ہوگا۔
پرانے A+ سے F تک کے گریڈز کی جگہ اب دس گریڈز پر مشتمل نیا نظام متعارف کروایا جا رہا ہے۔ سب سے اونچا گریڈ A++ ہے، جو 96 سے 100 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو دیا جاتا ہے۔ 40 فیصد سے کم نمبر اب "U" گریڈ میں شمار ہوتے ہیں، جس کا مطلب غیر درجہ بند (Ungraded) ہے۔ جامعات کی جانب سے تحفظات سامنے آنے کے بعد جی پی اے اور سی جی پی اے کا نظام پالیسی سے نکال دیا گیا۔
رزلٹ کے اعداد و شمار
کیا آپ جاننا چاہتے ہیں کہ اس سال فرسٹ ایئر کے طلبہ نے کیسی کارکردگی دکھائی؟ کئی بورڈز اپنے 2026 کے اعداد و شمار جاری کر چکے ہیں۔ نیچے دیے گئے تمام اعداد سرکاری گزٹس یا بورڈز کے باضابطہ بیانات سے لیے گئے ہیں۔ پنجاب کے 2026 کے اعداد رزلٹ والے دن یہاں شامل کیے جائیں گے۔
| بورڈ | امتحان دینے والے | کامیاب | کامیابی کی شرح |
|---|---|---|---|
| فیڈرل بورڈ | 105,108 | 67,848 | 65.31% |
| سوات بورڈ | 31,611 | 19,772 | 62.55% |
| پشاور بورڈ | 63,605 | 31,169 تمام مضامین میں پاس + 31,864 پروموٹ | 99.10% (مشترکہ) |
| کوئٹہ بورڈ (پارٹ ون + ٹو) | 99,946 | 88,944 | 89.0% |
فیڈرل بورڈ میں ریگولر طلبہ کی کامیابی کی شرح مجموعی نتیجے سے قدرے بہتر، یعنی 67.59 فیصد رہی۔ سوات بورڈ میں 2,563 طلبہ نے سب سے اعلیٰ A-1 گریڈ حاصل کیا۔
99.10 فیصد کی شرح بظاہر بہت شاندار لگتی ہے، لیکن یہ آدھی حقیقت ہے۔ اس میں پاس ہونے والے اور بارہویں جماعت میں پروموٹ ہونے والے دونوں طرح کے طلبہ شامل ہیں۔ 63,605 میں سے صرف 31,169 طلبہ نے تمام مضامین میں کامیابی حاصل کی۔ اس طرح حقیقی کامیابی کی شرح تقریباً 49 فیصد بنتی ہے۔
پشاور بورڈ میں ریاضی سب سے مشکل پرچہ ثابت ہوا جس میں کامیابی کی شرح صرف 41.70 فیصد رہی۔ ریاضی کا پرچہ دینے والے 17,507 طلبہ میں سے صرف 7,301 کامیاب ہو سکے۔
گزشتہ سال کے نتائج سے اس بار کی توقعات کا اچھا اندازہ ہو جاتا ہے۔ پنجاب بورڈز نے 2025 کا رزلٹ 15 اکتوبر کو صبح 10 بجے جاری کیا تھا۔ پنجاب کے نوں بورڈز میں کامیابی کی شرح راولپنڈی بورڈ میں 43.46 فیصد سے لے کر ڈیرہ غازی خان بورڈ میں 62.37 فیصد تک رہی۔ مجموعی طور پر 796,609 میں سے 430,777 امیدوار کامیاب ہوئے، یعنی کامیابی کی شرح 54.08 فیصد رہی۔
| درجہ | بورڈ | امتحان دینے والے | کامیاب | کامیابی کی شرح |
|---|---|---|---|---|
| 1 | ڈیرہ غازی خان بورڈ | 54,954 | 34,277 | 62.37% |
| 2 | ملتان بورڈ | 98,856 | 59,308 | 59.98% |
| 3 | سرگودھا بورڈ | 54,831 | 31,278 | 57.04% |
| 4 | فیصل آباد بورڈ | 108,182 | 60,302 | 55.74% |
| 5 | ساہیوال بورڈ | 42,529 | 23,182 | 54.51% |
| 6 | لاہور بورڈ | 172,100 | 92,541 | 53.77% |
| 7 | بہاولپور بورڈ | 57,720 | 29,981 | 53.17% |
| 8 | گوجرانوالہ بورڈ | 145,417 | 72,957 | 49.95% |
| 9 | راولپنڈی بورڈ | 62,020 | 26,951 | 43.46% |
| پنجاب کے تمام 9 بورڈز (مجموعی شرح) | 796,609 | 430,777 | 54.08% |
لاہور بورڈ کے ان اعداد کی تصدیق لاہور بورڈ کے 2025 کے سرکاری پارٹ ون گزٹ (PDF, 7.2 MB) سے ہوتی ہے۔ فیصل آباد بورڈ کے اعداد بورڈ کے کنٹرولر امتحانات نے جاری کیے، جنہیں سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے شائع کیا۔
لاہور بورڈ پنجاب میں گیارہویں جماعت کے طلبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے بورڈز میں شمار ہوتا ہے۔ 2025 میں یہاں 153,526 ریگولر اور 22,424 پرائیویٹ امیدواروں نے امتحان دیا۔ طالبات کی تعداد 103,260 جبکہ طلباء کی تعداد 72,690 تھی، یعنی لڑکیاں واضح اکثریت میں تھیں۔ سائنس گروپ میں 108,269 اور آرٹس گروپ میں 67,681 امیدوار شامل تھے۔
2014 میں لاہور بورڈ کے پارٹ ون میں کامیابی کی شرح 52.55 فیصد رہی تھی۔ گیارہ سال بعد 2025 میں یہ شرح 53.77 فیصد تک پہنچی، یعنی دس سال سے زیادہ عرصے میں صرف ایک پوائنٹ کا اضافہ ہوا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ گیارہویں جماعت کے لیے آخری وقت کی پڑھائی کے بجائے مسلسل تیاری ضروری ہے۔
آپ کا گروپ آپ کی کامیابی کے امکانات پر بڑا اثر ڈالتا ہے۔ نیچے دیکھیں کہ گزشتہ سال پنجاب کے دو بڑے بورڈز میں ہر گروپ کی کارکردگی کیسی رہی۔
| گروپ | لاہور بورڈ 2025 | فیصل آباد بورڈ 2025 |
|---|---|---|
| پری میڈیکل (ایف ایس سی) | 61.73% | 66.19% |
| پری انجینئرنگ (ایف ایس سی) | 57.99% | 73.15% |
| جنرل سائنس (آئی سی ایس) | 50.60% | 59.62% |
| کامرس (آئی کام) | 66.12% | 47.30% |
| ہیومینیٹیز (ایف اے) | 42.30% | 48.05% |
| ہوم اکنامکس | 99.41% | 88.89% |
رنگین خانہ = اس بورڈ میں سب سے کم گروپ کامیابی کی شرح۔
لاہور بورڈ میں ہیومینیٹیز گروپ کی کامیابی کی شرح سب سے کم رہی۔ کامرس گروپ میں بڑا فرق دیکھنے کو ملا، جہاں لاہور میں 66 فیصد کے مقابلے میں فیصل آباد میں صرف 47 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے۔ پری انجینئرنگ کے طلبہ نے لاہور کے مقابلے میں فیصل آباد میں کہیں بہتر کارکردگی دکھائی۔
لاہور بورڈ میں سائنس کے مضامین میں ریاضی کا نتیجہ سب سے کمزور رہا اور اس کی شرح 66.36 فیصد تھی۔ اسی بورڈ میں فزکس کی شرح 82.94 فیصد، کیمسٹری کی 78.02 فیصد اور بائیولوجی کی 77.67 فیصد رہی۔ فیصل آباد بورڈ میں بھی یہی رجحان نظر آیا، جہاں ریاضی میں 71.98 فیصد اور شماریات میں 71.36 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے۔
زبان کے پرچوں میں طلبہ کی کارکردگی کہیں بہتر رہی۔ لاہور بورڈ میں انگریزی میں 88.39 فیصد اور اردو میں 96.27 فیصد طلبہ کامیاب ہوئے۔
2025 میں فیصل آباد بورڈ میں لڑکیوں نے لڑکوں کو واضح فرق سے پیچھے چھوڑ دیا۔ لڑکیوں کی کامیابی کی شرح 63.47 فیصد جبکہ لڑکوں کی صرف 45.79 فیصد رہی۔ یہ فرق ہیومینیٹیز گروپ میں سب سے زیادہ تھا، جہاں ریگولر لڑکوں کی کامیابی کی شرح صرف 29.08 فیصد رہی۔
پنجاب میں یہ رجحان برسوں سے برقرار ہے۔ 2014 میں بھی لاہور بورڈ میں لڑکیوں کی کامیابی کی شرح 62.36 فیصد جبکہ لڑکوں کی 41.86 فیصد تھی۔
نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے
پوزیشن ہولڈرز وہ طلبہ ہوتے ہیں جو اپنے بورڈ میں سب سے زیادہ نمبر حاصل کرتے ہیں۔ پنجاب بورڈز عام طور پر ان کا اعلان رزلٹ سے ایک دن پہلے یا رزلٹ والے دن صبح کرتے ہیں۔ 2026 میں لاہور بورڈ نے بارہویں جماعت کے ٹاپرز کا اعلان رزلٹ سے ایک دن پہلے شام 4 بجے کیا تھا۔ اسی لیے گیارہویں جماعت کے پوزیشن ہولڈرز کا اعلان تقریباً 21 اکتوبر کو متوقع ہے۔
پنجاب بورڈز ہر سال اپنے بہترین طلبہ کے اعزاز میں خصوصی تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ 2025 میں گیارہویں جماعت کے ٹاپرز کو ان تقریبات میں سرٹیفیکیٹ اور شیلڈز دی گئیں۔ 2025 میں بارہویں جماعت کے رزلٹ پر پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور نقد انعامات بھی دیے گئے۔
ہر بورڈ کی فہرست میں مجموعی اور گروپ وار بنیاد پر پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والے طلبہ کے نام شامل ہوتے ہیں۔ اس میں ہر طالب علم کا نام، رول نمبر، کل حاصل کردہ نمبر اور کالج کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسے ہی ہر بورڈ کی 2026 کی فہرست جاری ہوگی، ہم اسے یہاں شامل کر دیں گے۔
| پوزیشن | نام | نمبر | ادارہ |
|---|---|---|---|
| 21 سے 22 اکتوبر 2026 کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا | |||
تعلیمی بورڈز
تفصیلی اعداد و شمار، اضلاع کی تفصیل اور رزلٹ دیکھنے کے طریقے جاننے کے لیے اپنے بورڈ پر کلک کریں۔ ہر بورڈ کے صفحے پر گزشتہ سال کے نتائج اور تازہ ترین اپ ڈیٹس بھی موجود ہیں۔
کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ اور میرپورخاص بورڈز کے لیے الگ الگ رزلٹ صفحات موجود ہیں۔ آغا خان بورڈ کے طلبہ اپنے رزلٹ کی تفصیلات اپنے بورڈ کے مخصوص صفحے پر دیکھ سکتے ہیں۔
تعلیمی گروپس
گیارہویں جماعت میں ہر طالب علم کچھ لازمی مضامین کے ساتھ اپنے گروپ کے اختیاری مضامین پڑھتا ہے۔ پنجاب میں اسلامیات کا پرچہ صرف پارٹ ون میں ہوتا ہے اور بارہویں جماعت میں دوبارہ نہیں لیا جاتا۔ ترجمہ القرآن المجید بھی 2026 کے پارٹ ون کے امتحانی شیڈول میں شامل تھا۔ آپ کا گروپ ہی طے کرتا ہے کہ آپ کے رزلٹ کارڈ پر کون سے اختیاری مضامین درج ہوں گے۔
تمام گروپس کے لیے لازمی مضامین (پنجاب): انگریزی، اردو، اسلامیات، ترجمہ القرآن المجید
| گروپ | اختیاری مضامین | آگے کا راستہ |
|---|---|---|
| ایف ایس سی پری میڈیکل | فزکس، کیمسٹری، بائیولوجی | ایم بی بی ایس، بی ڈی ایس، فارمیسی، نرسنگ |
| ایف ایس سی پری انجینئرنگ | فزکس، کیمسٹری، ریاضی | انجینئرنگ، آرکیٹیکچر |
| آئی سی ایس (جنرل سائنس) | کمپیوٹر سائنس کے ساتھ ریاضی، فزکس، شماریات یا معاشیات | کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر، آئی ٹی |
| آئی کام (کامرس) | اصولِ حسابداری، اصولِ معاشیات، اصولِ تجارت، بزنس ریاضی | بی بی اے، بی کام، اکاؤنٹنگ |
| ایف اے (ہیومینیٹیز) | تین اختیاری مضامین، جیسے نفسیات، تعلیم، معاشیات، جغرافیہ، عمرانیات یا فائن آرٹس | آرٹس، قانون، سماجی علوم |
| ہوم اکنامکس | ہوم اکنامکس کے پرچے اور منتخب اختیاری مضامین | ہوم اکنامکس، غذائیت |
مضامین کے امتزاج میں بورڈز کے درمیان معمولی فرق ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے بورڈ کی اسکیم آف اسٹڈیز ضرور دیکھیں۔
رزلٹ کے بعد
کسی ایک پرچے میں ناکامی پریشان کن ضرور ہوتی ہے، لیکن یہ سفر کا اختتام بالکل نہیں ہوتی۔ ہر بورڈ آپ کو آگے بڑھنے کا ایک واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔ آپ کے پاس کون سے آپشنز ہیں، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آپ کس بورڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔
پنجاب میں کسی پرچے میں فیل ہونے کا مطلب پورا سال دوہرانا نہیں ہوتا۔ آپ اگلے سال پارٹ ٹو کے امتحان کے ساتھ صرف اسی مضمون کا پرچہ دوبارہ دے سکتے ہیں۔ لاہور بورڈ نے اپنے 2025 کے سرکاری پارٹ ون گزٹ میں اس قانون کی تصدیق کی تھی۔
فیڈرل بورڈ کے طلبہ کے پاس فیل پرچے کلیئر کرنے کا نسبتاً تیز راستہ موجود ہے۔ فیل اور غیر حاضر امیدوار ایچ ایس ایس سی کے دوسرے سالانہ امتحان 2026 میں حصہ لے سکتے ہیں۔ اس امتحان میں منتخب پرچے دوبارہ دے کر اپنے نمبر بہتر بھی بنائے جا سکتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے بورڈز بہت سے طلبہ کو باقی پرچوں کے ساتھ بھی بارہویں جماعت میں پروموٹ کر دیتے ہیں۔ 2026 میں پشاور بورڈ نے اسی طرح 31,864 امیدواروں کو پروموٹ کیا۔ اپنی ڈی ایم سی بغور دیکھیں تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سے پرچے ابھی کلیئر کرنے باقی ہیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کے نمبر درست نہیں تو آپ بورڈ سے پرچے کی ری چیکنگ کی درخواست کر سکتے ہیں۔ لاہور بورڈ رزلٹ کے 15 دن کے اندر آن لائن ری چیکنگ کی درخواستیں وصول کرتا ہے۔ ری چیکنگ میں دیکھا جاتا ہے کہ نمبروں کا مجموعہ درست ہے اور کوئی جواب بغیر چیک کیے نہیں رہ گیا۔ 22 اکتوبر کے رزلٹ کے حساب سے یہ مدت تقریباً 6 نومبر کو ختم ہو گی۔
مکمل فیس اور طریقۂ کار ہمارے گیارہویں جماعت ری چیکنگ صفحے پر دیکھیں۔
رزلٹ کے دن مدد
صبح 10 بجے کے بعد پہلے گھنٹے میں بورڈز کی ویب سائٹس اکثر سست ہو جاتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں طلبہ بیک وقت اپنا رزلٹ دیکھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ پریشان نہ ہوں، آپ کا رزلٹ محفوظ ہے اور کہیں نہیں جائے گا۔
کسی بھی غیر سرکاری رزلٹ ویب سائٹ پر کبھی پیسے ادا نہ کریں اور نہ ہی شناختی کارڈ کی تفصیل دیں۔ اصل رزلٹ صرف بورڈ کی ویب سائٹ، سرکاری ایس ایم ایس کوڈ اور گزٹ کے ذریعے ہی ملتا ہے۔ جو صفحہ صبح 10 بجے سے پہلے "قبل از وقت رزلٹ" دکھانے کا دعویٰ کرے، وہ ہمیشہ جعلی ہوتا ہے۔
مدد مرکز
فرسٹ ایئر رزلٹ سے متعلق وہ سوالات جو طلبہ ہم سے سب سے زیادہ پوچھتے ہیں، ان کے مختصر اور واضح جوابات یہاں دیے گئے ہیں۔
پنجاب کے نوں بورڈز جمعرات، 22 اکتوبر 2026 کو رزلٹ جاری کریں گے۔ رزلٹ صبح 10 بجے بورڈز کی سرکاری ویب سائٹس پر دستیاب ہو جائے گا۔
پنجاب بورڈز کا فرسٹ ایئر رزلٹ 22 اکتوبر 2026 کو آئے گا۔ فیڈرل بورڈ، خیبر پختونخوا اور کوئٹہ بورڈ اپنے نتائج پہلے ہی جاری کر چکے ہیں۔
اپنے بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ کھولیں اور انٹر پارٹ ون سالانہ امتحان 2026 منتخب کریں۔ اپنا رول نمبر درج کرکے سرچ پر کلک کریں تو آپ کے نمبر سامنے آ جائیں گے۔
جی ہاں، پشاور بورڈ نے 21 ستمبر 2026 کو گیارہویں جماعت کا رزلٹ جاری کر دیا تھا۔ طلبہ اپنا رزلٹ بورڈ کی سرکاری ویب سائٹ پر دیکھ سکتے ہیں۔
99.10 فیصد کی شرح میں پاس ہونے والے اور پروموٹ ہونے والے دونوں طلبہ شامل ہیں۔ تمام مضامین میں پاس ہونے والے طلبہ کی حقیقی شرح تقریباً 49 فیصد ہے۔
جی ہاں، فیڈرل بورڈ نے 9 ستمبر 2026 کو صبح 11:30 بجے رزلٹ جاری کیا تھا۔ مجموعی کامیابی کی شرح 65.31 فیصد رہی۔
آئی بی سی سی نے 40 فیصد پاسنگ مارکس مقرر کیے ہیں، لیکن پنجاب نے 2026 کے نویں جماعت کے رزلٹ میں 33 فیصد ہی لاگو کیے۔ اس لیے پنجاب کے گیارہویں جماعت کے رزلٹ میں بھی 33 فیصد کا امکان زیادہ ہے، جس کی تصدیق رزلٹ والے دن کی جائے گی۔
2025 میں لاہور بورڈ کی کامیابی کی شرح 53.77 فیصد رہی اور 92,541 طلبہ کامیاب ہوئے۔ فیصل آباد بورڈ کی شرح 55.74 فیصد اور بہاولپور بورڈ کی 53.17 فیصد رہی۔
جی ہاں، اگر آپ کا بورڈ نام سے تلاش کی سہولت دیتا ہے تو اسے استعمال کریں۔ بصورتِ دیگر سرکاری گزٹ پی ڈی ایف میں اپنا نام تلاش کریں۔
پنجاب کے طلبہ بارہویں جماعت کے امتحان کے ساتھ اس مضمون کا پرچہ دوبارہ دے سکتے ہیں۔ اس کے لیے پورا سال دوہرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
لاہور بورڈ رزلٹ کے بعد 15 دن تک آن لائن ری چیکنگ کی درخواستیں قبول کرتا ہے۔ 2026 میں یہ آخری تاریخ تقریباً 6 نومبر بنتی ہے۔
پنجاب بورڈز عام طور پر رزلٹ سے ایک دن پہلے یا رزلٹ والے دن ٹاپرز کا اعلان کرتے ہیں۔ 2026 کی فہرست تقریباً 21 اکتوبر کو متوقع ہے۔
آخری بات
گیارہویں جماعت کا رزلٹ 2026 ایک اہم مرحلہ ضرور ہے، لیکن یہ صرف ایک مرحلہ ہے۔ آپ کے نمبر جو بھی ہوں، بارہویں جماعت آپ کو بہتری کا ایک مکمل دوسرا موقع دیتی ہے۔ گزشتہ سال لاہور بورڈ کے تقریباً آدھے امیدوار کم از کم ایک پرچے میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے، اس لیے آپ اکیلے نہیں ہیں۔ اپنا رزلٹ سکون سے دیکھیں، کمزور مضامین کی نشاندہی کریں اور اگلے قدم کی منصوبہ بندی کریں۔
اس صفحے پر دیا گیا ہر عدد کسی سرکاری یا سرکاری طور پر تصدیق شدہ ذریعے سے لیا گیا ہے۔ کوئی بھی معلومات شائع کرنے سے پہلے ہم بورڈ گزٹس، بورڈز کی ویب سائٹس اور اے پی پی کی خبروں سے ان کی تصدیق کرتے ہیں۔